یہ گرانقدر کتاب انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی گئی ہے۔ شاہ محی الحق صاحب نے بڑی دقتِ نظری سے ترجمہ کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن عالمی ادارہ فکرِ اسلامی اسلام آباد سے شائع ہوا تھا۔ یہ دوسرا ایڈیشن منشورات لاہور نے شائع کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی کتب ہر وقت بازار میں دستیاب ہونی چاہئیں۔ کتاب خرم جاہ مراد مرحوم کے نام معنون کی گئی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے محرکین میں سے ایک جناب ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری تحریر فرماتے ہیں۔
’’اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عمل اُمت ِ مسلمہ کا ایسا امتیاز ہے جو ہماری تاریخ کے ہر عہد میں مسلسل جاری رہا ہے۔ گزشتہ صدیوں میں اس کام کی انجام دہی میں بالعموم مذہبی اداروں سے وابستہ افراد پیش پیش رہے ہیں لیکن پچھلے کئی عشروں سے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے اور مسلمان معاشروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی جدوجہد کا یہ پہلو قابلِ ذکر نظر آتا ہے کہ اس میں اُن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جن کا تعلق اگرچہ مدرسہ و خانقاہ سے نہ تھا لیکن ان کی دینی غیرت اور دین کی خدمت کا جذبہ دوسروں سے کم نہ تھا۔ اس طرح باضابطہ علماء اور غیر علماء کے اشتراک و تعاون سے کم و بیش ہر جگہ دینی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان سرگرمیوں کا دوسرا قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ متعدد ایسے ممالک میں بھی جہاں مسلمان اس سے قبل آباد نہ تھے، دینی دعوت و تبلیغ کا کام تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ امر مسرت کا موجب ہے کہ غریب الدیاری میں ہمارے بہت سے بھائیوں اور بہنوں کا اپنے دین سے تعلق نہ صرف قائم رہا بلکہ بعض اوقات مزید مستحکم ہوا، اور ان میں یہ جذبہ بھی پیدا ہوا کہ وہ ایک طرف اسلام کی دعوت دوسروں تک پہنچائیں اور دوسری طرف خود اپنی اور اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی اسلامیت کو برقرار رکھنے اور مضبوط اور زیادہ معنی خیز بنانے کا اہتمام کریں۔
چنانچہ انگلستان، فرانس اور امریکہ وغیرہ میں ایسی متعدد تنظیمیں قائم ہوئیں اور اسلامی دعوت کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں سامنے آئیں۔
اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر ہشام الطالب اُن چند نمایاں افراد میں سے ہیں جنہوں نے شمالی امریکہ میں مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ]ایم ایس اے[ کی داغ بیل ڈالی۔ ان کا تعلق ایم ایس اے کی اس ابتدائی قیادت سے ہے جس نے شمالی امریکہ میں، خاص طور پر وہاں کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم مسلمان طلبہ کو بیدار اور اسلامی مقاصد کے لیے ان کو منظم اور متحرک کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ اسلامی سرگرمیوں میں گزرا ہے۔ اس سلسلے میں انہیں مختلف تنظیموں کے کام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ان کے اندر یہ خواہش ابھری کہ اسلامی دعوت کو ایسے خطوط پر استوار کیا جائے کہ اس سے وابستہ افراد کی صلاحیتوں کی نشوونما اور ان سے بہتر سے بہتر کام لیا جاسکے تاکہ یہ دعوت زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بن سکے۔ ڈاکٹر ہشام الطالب نے اپنے مشاہدے، تجربے اور سوچ بچار کا حاصل زیر نظر کتاب کی صورت میں قلم بند کردیا ہے۔
جیسا کہ اس کتاب کے عنوان سے ظاہر ہے، یہ مختلف معاشروں میں دینی دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے کچھ رہنما اصول فراہم کرنے کی غرض سے مرتب کی گئی ہے۔ ایسے اصول جن کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو دعوت کا عمل زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔ یہ کتاب پہلے ’’عالمی ادارہ فکرِ اسلامی‘‘ کے زیراہتمام انگریزی میں، اور اس کے بعد عربی زبان میں شائع ہوئی اور اسے بڑے پیمانے پر تحسین کی نظر سے دیکھا گیا، اور دینی کام کرنے والے افراد اور جماعتوں نے محسوس کیا کہ اس میں ان کے لیے ایک جامع راہِ عمل اور نہایت قیمتی ہدایات موجود ہیں۔
کتاب کے مندرجات کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نظری سے زیادہ عملی پہلوئوں پر مرکوز ہیں۔ ایک فرد کی شخصی تعمیر سے لے کر دعوتِ اسلامی کی توسیع تک، اور اس سلسلے میں مؤثر انداز کے اجتماعات منعقد کرنے سے لے کر دعوتِ اسلامی کی منصوبہ بندی تک، اور دعوت وتبلیغ کے معروف طریقوں کے استعمال سے لے کر عصرِ حاضر کی بہترین سہولتوں کے استعمال پر غور و فکر جیسے بے شمار مسائل اس میں زیر بحث آگئے ہیں۔ کتاب کی اسی افادیت کے پیش نظر ہم اس کا اردو ترجمہ پیش کررہے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے وہ لوگ جو دعوت کے کام سے دلچسپی رکھتے ہیں، بلکہ وہ تمام اردو خواں جو اس میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہوگا اور اسلامی مقاصد کے لیے اپنی سعی و جہد میں وہ اس سے عملی طور پر استفادہ کرسکیں گے۔
اس کتاب کے ترجمے کا کام جناب شاہ محی الحق فاروقی صاحب کے سپرد کیا گیا تھا جو نہ صرف ایک کہنہ مشق اور صاحبِ طرز ادیب ہیں بلکہ ترجمے کا بھی سلیقہ اور تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہ صاحب نے بہت توجہ اور قابلیت سے اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔ چونکہ کتاب نفسِ مضمون کے اعتبار سے عام دینی کتابوں سے مختلف ہے، اس لیے ترجمے کے محاسن سے باخبر ہونے کے باوجود اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس پر نظرثانی کی جائے۔ اس مرحلے پر جناب ممتاز لیاقت صاحب نے ]جو ادارہ تحقیقاتِ اسلامی میں میرے رفیقِ کار اور صحافت کا تجربہ رکھتے ہیں[کتاب کے مسودے کا جائزہ لیا اور نظرثانی کے سلسلے میں بعض مفید مشورے دیے۔
اس رہنما کتاب کا استعمال پروفیسر اسماعیل راجی الفاروقی مرحوم و مغفور کی تصنیف ’’توحید: زندگی اور فکر کے لیے اس کا معنی اور مفہوم‘‘ ]انگریزی[کے ساتھ ملا کر کیا جانا چاہیے جو اولاً ’’عالمی ادارہ فکرِ اسلامی‘‘ اور بعد میں طلبہ تنظیموں کی بین الاقوامی اسلامی وفاقیہ کی جانب سے شائع کی گئی تھی۔ زیرنظر کتاب کا بنیادی مقصد اسلام کی تبلیغ کے سائنسی اور فنی پہلوئوں کو اجاگر کرنا اور زیرتربیت افراد کی تیاری کے طریقوں پر روشنی ڈالنا ہے، جب کہ پروفیسر فاروقی مرحوم کی کتاب ’’توحید‘‘ کا تعلق خود اس پیغام یعنی اسلامی تعلیمات کی مناسب انداز میں توضیح سے ہے۔
زیرنظر رہنما کتاب کی ضخامت کو اس حد تک کم رکھنے کے لیے کہ اس کا مطالعہ کرنا آسان ہو، ہم نے اس کے عنوانات کا انتخاب کافی احتیاط سے سوچ بچار کے بعد کیا ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ ’’عالمی ادارہ فکرِ اسلامی‘‘ میں وسائلِ انسانی کی ترقی کا شعبہ اپنے کتب خانہ اور دیگر تمام ممکن ذرائع سے کام لے کر دوسرے موضوعات کے بارے میں ضروری مواد پیش کرے گا اور میدانِ عمل میں مصروف کارکنوں کے استفسارات کا تسلی بخش جواب دے کر اس رہنما کتاب کی افادیت میں گرانقدر اضافہ کرے گا۔
اس کتاب میں شامل بہت سے معاملات کا تذکرہ صرف قارئین کو متوجہ کرنے اور انہیں اپنا فرضِ منصبی یاد دلانے کی غرض سے کیا گیا ہے، لہٰذا اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین خود کو صرف اس کتاب تک محدود نہ رکھیں بلکہ بہتر تفہیم اور ادراک کے لیے اپنے مطالعہ کو وسعت دیں، مزید مواد اور ماخذ تلاش کریں، کیونکہ اس میدان میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی ہورہی ہے۔ اس میں مہارت نئی تحقیقات کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان موضوعات سے متعلق کتابوں کا مطالعہ اور کانفرنسوں اور لائبریریوں سے مسلسل رابطہ تربیت دینے والے اور تربیت حاصل کرنے والے افراد دونوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔
تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں جس نے اس مشکل کام کو ممکن بنایا۔ اے اللہ! تُو ہمیں صراطِ مستقیم پر چلا۔ آمین‘‘
.یہ کتب تاریخ اسلام کے پلیٹ فارم سے شائع ہو اور بڑی تعداد میں نہ صرف خواتین بلکہ مرد حضرات بھی اس کا مطالعہ کریں
