سیدعلی گیلانی خطۂ کشمیر میں تحریکِ اسلامی کے سرخیل اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کے روحِ رواں ہیں۔ وہ تقریباً ۲۵ سال سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے آرہے ہیں۔ بڑھاپے کے ساتھ عارضۂ قلب اور سرطان جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہیں لیکن اس عالم میں بھی ان کے حوصلے اور جذبے تندرست و توانا اور مستحکم ہیں جس کی ایک دلیل زیرنظر کتاب ہے۔
علامہ اقبال کو عام طور پر اُردو شاعری کے حوالے سے جانا جاتا ہے لیکن اقبال کی فارسی شاعری بھی اپنے اندر ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو رکھتی ہے۔ علی گیلانی نے اقبال کے فارسی کلام سے ان کی شخصیت کے اس منفرد پہلو کو اُجاگر کرکے فی الواقع ایک بڑی خدمت انجام دی ہے۔ یہاں ہمیں اقبال ایک فلسفی اور شاعر سے بڑھ کر احیاے اُمت کے داعی اور نبی کریمؐ کے مشن کے علَم بردار نظر آتے ہیں۔ وہ مسلمان سے کہتے ہیں کہ اے لاالٰہ کے وارث! تو اپنی حقیقت کو پہچان اور دینِ حق کو لے کر اُٹھ، یہی تمھارے تمام مسائل کا حل اور علاج ہے۔
علامہ اقبال کے افکارِ عالیہ کا سرچشمہ قرآن و حدیث ہے۔ زیرنظر کتاب میں ۱۶موضوعات کے تحت افکار اقبال کی توضیحات شامل ہیں۔ سید علی گیلانی نے زمانۂ طالب علمی کا کچھ عرصہ لاہور میں گزارا اور یہیں ’پرندے کی فریاد‘ اقبال سے ان کے اوّلین تعارف کا سبب بنی۔ وہ لاہور کا ذکر انتہائی محبت سے کرتے ہیں۔ انھوں نے فکرِاقبال کے ترکیبی عناصر اور اس کے بتدریج ارتقا پر سیرحاصل گفتگو کی ہے اور یہ گفتگو زیادہ تر ان کے شعری شاہ کار جاوید نامہ کے حوالے سے کی گئی ہے۔
جاوید نامہ دراصل ایک تمثیل ہے۔ اس میں اقبال اور رومی مختلف افلاک کا سفر کرتے ہوئے عالمِ بالا میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ’قلزمِ خونیں سے ایک غدار کی فریاد‘ کے زیرعنوان گیلانی صاحب نے موجودہ تناظر میں ملک و ملّت کے غداروں کو ان کے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرقی اقوام بالخصوص اہلِ ہندستان بظاہر آزاد ہوچکے ہیں مگر مسلم مشرق اب بھی استعماری قوتوں کے پنجۂ استبداد میں ہے۔ اس دگرگوں صورتِ حال سے چھٹکارے کے لیے ہم افکارِ اقبال کی روشنی میں اپنا لائحۂ عمل مرتب کرسکتے ہیں۔
سید علی گیلانی کا خیال ہے کہ تحریکِ آزادی اور تبلیغ دین کے کام میں ہمیں کلامِ اقبال سے استفادہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ اقبال روحِ دین کے شناسا ہیں۔ گیلانی صاحب کہیں کہیں اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور شعرِاقبال سے تائید حاصل کرتے ہیں۔ انھوں نے اسبابِ زوالِ اُمت کی نشان دہی کرتے ہوئے فکرِاقبال کی روشنی میں ان کا حل پیش کیا ہے۔ ان کے خیال میں فکرِاقبال ہی دردِ ملّت کا درماں ہے۔
یہ کتاب علم و حکمت کا خزینہ ہے اور اپنے اندر عام قارئین کے لیے بھی دل چسپی کا سامان لیے ہوئے ہے۔ علی گیلانی کی تحریر خوب صورت اسلوبِ نگارش کا مرقع ہے۔
.یہ آن لائن اسلامی کتاب گھر کے پلیٹ فارم سے شائع ہو اور بڑی تعداد میں نہ صرف خواتین بلکہ مرد حضرات بھی اس کا مطالعہ کریں
