خاموشی پیچھے شور-عبداللّٰہ شاہ ہاشمی

بچوں کے ذوقِ مطالعہ اور ان کے ادب پر ابتدائی دور میں زیادہ کام نہیں ہوا۔ البتہ گذشتہ ربع صدی میں بچوں کے ادب پر نسبتاً توجہ دی گئی جس کے نتیجے میں کہانیوں کی سیکڑوں کتب اور بیسیوں رسالے منظرعام پر آئے ہیں۔ خصوصاً بچے کی زندگی میں کہانی کی اہمیت کا احساس اُجاگر ہوا ہے اور بچوں کے رسائل میں تنوع اور معیار میں بہتری آئی ہے۔ کہانیوں پر مشتمل زیرنظرکتاب بچوں کے ادب میں خوب صورت اضافہ ہے۔ بنیادی طور پر ان کہانیوں کی مخاطب نئی نسل ہے۔

بچوں کے لیے ادب کی تخلیق اس سے کہیں مشکل ہے جو بڑوں کے لیے لکھا جاتا ہے۔ بچوں کے دلوں کو مسحور کرنا اور ان کے لیے فن سے مسرت کشید کرنا ریاضت طلب ہوتا ہے۔ اخترعباس گوناگوں صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان کہانیوں میں انھوں نے بڑی ریاضت سے کام لیا ہے۔ وہ بچوں کی نفسیات کا اِدراک رکھتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی فکروشعور کی قوتوں کو بیدار کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے. کہانیوں میں دیمک، اندر کی چٹخنی، چیک بُک اور دربان جیسی کہانیاں ذہنی بالیدگی کا سبب بھی ہیں اور نئی نسل کے احساسات کی تسکین کا ذریعہ بھی
۔ ان سے جہاں دل چسپ پیرایے میں معاشرتی اقدار اور انسانی رویوں سے آگاہی ہوتی ہے وہاں ایسے کرداروں کا تعارف بھی ہوتا ہے جو اعلیٰ قدروں کے علَم بردار بھی ہیں اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کے حامل بھی۔ ان کہانیوں کا اسلوب نوجوانوں کے علاوہ بڑوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور فکری رہنمائی اور تعمیر سیرت و کردار کا ذریعہ بنتا ہے۔
.یہ آن لائن اسلامی کتاب گھر کے پلیٹ فارم سے شائع ہو اور بڑی تعداد میں نہ صرف خواتین بلکہ مرد حضرات بھی اس کا مطالعہ کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *