اقبال روح دین کا شناسا، سید علی گیلانی

تحریر : شاہ عباس

ایک ہی شخص کے پاس تحریر و تقریر کے فن کا ہونا ویسے تو ایک غیر معمولی بات ہے اور جب ان دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی بھی ہو تو سونے پہ سہاگا۔ مصنف سید علی گیلانی نے ”روح دین کا شناسا، اقبال“ تحریر کرکے یہ بات ثابت کی کہ وہ اپنے پاس تحریر و تقریر کی ہم آہنگی کی غیر معمولی صفت بدرجہ اتم رکھتے ہیں۔ اقبال شناس گیلانی نے علامہ کے فارسی کلام کو اُردو کا جامہ پہنا کر اقبالیات میں دلچسپی رکھنے والوں کی شدید ضرورت کو پورا کر دیا۔ علامہ اقبالؒ نے بیسوی صدی کے دوران دین و فلسفے کی مشعل میں انگریزی ،اُردو اور فارسی ،تینوں زبانوں کے الفاظ انڈھیل کر برصغیر کے مسلمانوں کو بالخصوص اس کی روشنی میں چل کر اپنی منزل تلاش کرنے کی کامیاب کوشش انجام دی۔
کشمیری الاصل اقبالؒ کے فارسی کلام کا ایک کشمیری اقبال شناس نے اُردو ترجمہ کرکے بظاہر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اقبال نے بیسوی صدی میں جن خیالات کا اظہار کیا اُن پر عمل آوری سے اکیسویں صدی کے انسانوں کو بھی فیض حاصل ہو سکتا ہے۔ علامہ مرحوم جس زمانے میں پورے جلال میں تھے اُن ایام میں برصغیر کے اندر اتنی بڑی تبدیلیاں عمل میں آگئیں جن کے بطن سے موجودہ دنیا کے دوسرے طویل ترین انسانی مسئلے نے جنم لیا۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ ”روح دین کا شناسا، اقبال“ کا مصنف اُسی انسانی مسئلے کا وکیل ہے۔ تصور پاکستان کے خالق کا شناسا، تکمیل پاکستان کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ سید علی گیلانی نامی اس اقبال شناس کا ماننا ہے کہ تکمیل پاکستان کے بغیر تصور پاکستان مکمل نہیں ہو سکتا ہے اور اس کے لئے وہ علامہ اقبال کی فروزاں شمع سے ہی روشنی حاصل کرنے کی ترغیب دئے پھر رہا ہے۔ بقول پروفیسر خورشید احمد ” سید علی گیلانی اس وقت جس تاریخی جدوجہد کی قیادت کر رہے ہیں وہ اقبالؒ کے خواب کی تعبیر کی ایک شکل ہے۔۔۔۔“۔
بالفاظ دیگر برصغیر کے مسلمانوں کو خاص طور پر جھنجھوڑنے والی اقبالیات سے آج سید علی گیلانی اُسی طرح کے مقاصد حاصل کرنے کی جستجو میں ہیں جس مقصد کے لئے اُس کو کبھی استعمال کیا گیا تھا۔ مطلب حالات وہی پرانے، مسائل بھی وہی ،نیا ہے تو صرف اکیاسی سالہ اقبال شناس ،جس نے اُوروں کو بھی اقبال شناسائی حاصل کرنے کے لئے ”روح دین کا شناسا،اقبال“ تحریر کی۔مصنف گیلانی نے اقبالیات کو کشمیر سے ملانے کے لئے ایک اور کوشش کرتے ہوئے اپنی قوم سے شکوہ کرنے کے لئے بھی علامہ کے کلام کی شرح کے لئے مخصوص کتاب کو ہی منتخب کیا۔ صفحہ نمبر66 پر رقمطراز ہیں”ابھی جو قوم لاکھوں کی تعداد میں آزادی کا نعرہ بلند کر رہی تھی ۔۔۔ مراعات کی لالچ میں آ کر،اپنے قاتلوں، عزت و آبرو پامال کرنے والوں، بستیوں کو خاکستر میں بدل دینے والوں کو ووٹ بھی دیتی ہے اور سپورٹ بھی کرتی ہے۔واہ حسرتا!“

سید علی گیلانی کی تصنیف کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے اس کو کشمیری مسلمانوں کے لئے بطور خاص تحریر کیا ہے۔ اقبال کے کلام کے معنی و مطالب کو ریاست جموں کشمیر کے سیاسی حالات سے جوڑنا اور اقبال ہی کی زبانی کشمیری عوام کو مخاطب کرنا مصنف کے دو پہلوﺅں کو اجاگر کرتا ہے۔ اول یہ کہ وہ جس نظریہ کے حامل ہیں اُس کے حق میں اُنہوں نے اقبالیات سے دلائل نکالنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے اور دوم یہ کہ مصنف نے اپنے اس موقف کے حق میں دلائل پیش کرنے کامیابی حاصل کی ہے کہ جو نظام ہائے زندگی اس وقت دنیائے انسانیت میں رائج العمل ہیں اصل میں وہی اس کے اندر موجود مسائل کی بنیادی وجہ بھی ہیں۔ قاری کو ہر باب اور ہر ورق پڑھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اقبال کا پورا فارسی کلام کشمیر کے سیاسی و سماجی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور صرف کشمیری عوام کو ہی مخاطب کرکے تحریر کیا گیا ہے۔ یہ مصنف گیلانی کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ وہ اپنی اس کوشش میں سو فیصد کامیاب ہو گئے ہیں۔
گوکہ علامہ مرحوم کا مخاطب انسان رہا ہے اور اُنہوں نے براہ راست مسلمانوں کو بھی خطاب کیا ہے مگر سید علی گیلانی نے اقبال کے فارسی کلام کی تفسیر ایسے انداز میں تحریر کی ہے کہ ایک عام کشمیری علامہ اقبال ؒ کو بآسانی اپنا لیڈر اور قائد تسلیم کر سکتا ہے اور مصنف کا بھی یہی مقصد لگتا ہے، جس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہو گیا ہے۔
کشمیر کے عوامی حلقے علامہ مشرق کو زیادہ تر اُن کے اُردو کلام سے جانتے ہیں حالانکہ فکر اقبال اور نظریاتی علامہ اصل میں اُن کے فارسی کلام اور نثر میں پوشیدہ ہے۔ اس طرح سید علی گیلانی نے کشمیر کے قارئین کے لئے اقبالیات کو سمجھنے کی ایک نئی راہ کھول دی جو بے شک اس شعبے کے طالب علموں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *