تعارف
ڈاکٹر حسن صہیب مراد
چیئرمین، یونی ورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی ، لاہور
آپ کے ہاتھوں میں یہ کتاب محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب کے منتخب مضامین پر مشتمل ہے، جو قرآن کی تعلیمات کی بنیاد پر انفرادی و اجتماعی زندگی کے اہم مسائل پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ آئی ایل ایم ٹرسٹ کے لیے یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ وہ اپنے صدر نشین کی تصنیف پیش کررہا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب کی علمی خدمات سات عشروں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ وقت، عمر، قومی و ملی بحران، غم یا بیماری ان کے اس علمی اور فکری سفر میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بن سکے۔ الحمدللہ، ان کا قلم ان کی زندگی کے ہر سانس کے ساتھ مسلسل سفر کرتا آرہا ہے۔
اس سفر میں ہر موقعے پر اسلام نظریۂ حیات کی وضاحت، اسلامی فکر کے احیاء، اسلامی علوم کی آبیاری، امت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں، پاکستان کے مسائل کے حوالے سے جو کچھ لکھا جانا ضروری تھا، وہ ان کے نوکِ قلم سے صفحات پر منتقل ہوا اور عوام و خواص تک پہنچا۔ بہت ہی کم لکھنے والے ایسے گزرے ہیں، جن کے قلم کو زمانے کے گرم و سرد نے متاثر نہ کیا ہو، جن کے قلم کی رفتار، مضامین کی تاثیر، اور موقف کی سمت میں تبدیلی نہ آئی ہو۔ مگر پروفیسر صاحب کا قلم ایسی ہر ٹیڑھ سے ناآشنا رہا اور کبھی کسی دبائو کا شکار نہ ہوا۔ کبھی منظر سے لاتعلق بھی نہ ہوا۔ ایسا لکھنے والے بھی بہت کم ہوئے ہیں کہ جن کے مضامین کے موضوعات کا تنوع خود زندگی کی مانند وسیع تر اور ہم گیر ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو کچھ زندگی سے متعلق تھا، وہ کسی نہ کسی صورت میں ان کی تحریر میں سمٹ آیا۔ پھر ساتھ ہی ان کا یہ سب سے بڑا اعزاز ہے کہ کوئی بات قرآن و حدیث سے ہٹ کر نہ لکھی ، نہ کہی۔
اسلام کا داعی ہونے کی حیثیت سے انھوں نے اپنے قلم کی نوک کو خشیتِ الٰہی سے تراشا ہے، الہامی دوات کی روشنائی سے تر کیا ہے اور لوح و قرطاس کو امانت سمجھ کر استعمال کیا ہے۔ ان کی تحریروں سے اگر کسی کو چبھن ہوتی ہے، تو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ حق کی پہچان میں کوتاہی کا شکار ہے اور حقائق کا ادراک کرنے کے بجائے تشکیک کے گردوغبار میں گم ہے یا پھر اسے اپنے پسندیدہ نظریات کی عمارت باطل ہونے کے باعث مسمار ہوتی نظر آتی ہے۔
محترم پروفیسر خورشید احمد کا قلم، الحمد للہ، کتاب الٰہی سے اکتسابِ فیض کرتا ہے۔ پڑھنے والا اس قلم کی حرکت میں ایمان کی حرارت محسوس کرتا ہے۔ ان کے افکار و خیالات کا ابھار کتاب اللہ کے نور کا فیضان ہے۔ وہ مضامین میں، کتاب اللہ کا رشتہ انسان سے، انسانی معاشرے سے اور بالخصوص مسلم اُمت سے قائم کرتے ہیں۔ اس رشتے کی ہر پہلو سے وضاحت کرتے ہیں، اور اس کو دوام بخشنے کے لیے کارگر ترین اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا مطالعہ زندگی کے مسائل و معاملات میں اسلام سے رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
محترم پروفیسر خورشید احمد کی تحریر میں نثری ادب کا منفرد آہنگ دیکھا جاسکتا ہے۔ صاف گوئی سے موقف کا اظہار ، اپنے نقطۂ نظر پر عقلی انداز سے استدلال ، اور اپنے بیانیے کو تحقیق اور ثبوت سے مزین کرنا ان کا خاصہ ہے۔ وہ تجزیے کا قرینہ اپناتے ہیں، مقاصد کا محور دکھاتے ہیں، ایمان سے لبریز بنیاد استوار کرتے ہیں، اور خالصتاً علمی عمارت کے مضبوط ستون قائم کرتے ہیں۔
پاکستان کی نئی نسل ہی اس کا اصل اثاثہ ہے اور پاکستان کےمستقبل کا انحصار نئی نسل کی نظریۂ پاکستان کے ساتھ فکری و عملی وابستگی پر منحصر ہے۔ موجودہ دور میں پاکستان کو از سر نو نظریاتی بحث کا سامنا ہے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا پرچار کرنے او ر ایسے اقدامات کی کوشش کرنے والے اسلام سے کچھ بھی نسبت نہیں رکھتے، مگر افسوس کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کی آڑ میں نظریۂ پاکستان کی بیخ کنی کرنے اور اسلام سے دور لے جانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ بنیادی سوالات ، جن کا جواب قوم بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کر چکی ہے، ان کو دوبارہ اٹھایا جا رہا ہے۔ وہ راستے جو قوم نے برسوں بھٹکنے کے بعد بند کر دیے تھے، ان کو دوبارہ پرکشش بنایا جا رہا ہے۔
اسلام کے بارے میں ایک مخصوص ذہنیت یہ پراپیگنڈا بھی کر رہی ہے کہ اسلام زمانے اور وقت کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اس بات کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام کو محض فرد کے انفرادی کردار، اخلاق اور خاندانی معاملات تک محدود کر دیا جائے۔ ایسے شکوک و شہبات پیدا کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں نئی نسل اسلام کے رنگ میں اپنی شناخت قائم کرنے کے بجائے دوغلے پن کا اور شدید الجھن کا شکار ہو رہی ہے۔
اس فضا میں زیر نظر کتاب کا مقصد اسلام کے خدوخال کو جامع انداز میں واضح کرنا ہے۔ اسلامی فکر کا رشتہ زندگی سے قائم کرنا ہے۔ زندگی کے امڈتے ہوئے مسائل اور معاملات میں اسلام کی روشنی میں رہنمائی تلاش کرنا ہے۔ اس کتاب کا مقصد دلائل اور تقابلی جائزے کے ذریعے تنقیدی اور تخلیقی سوچ کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ کتاب لکیر کا فقیر بنانے کے بجائے، اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ اسلام (یعنی قرآن و سنت) کو ماخذ مان کر زندگی کی تشکیل اس انداز سے کی جائے کہ ایک جانب تقلید اور نقالی کی زنجیر کا شکار ہونے سے بچا جائے، تو دوسری جانب غالب نظریات و افکار کو محض ان کے رواج کی وجہ سے صحیح نہ مان لیا جائے، بلکہ اسلام کی حقانیت ، اس کی سچائی، اس کی غایت پر بھروسا کیا جائے۔ انفرادی زندگی کو روشن کرنے اور اس کو فکری و عملی لحاظ سے استوار کرنے کے لیے عبادات اور ایمانیات کا جو نظام اسلام نے دیا ہے ، اس کے دامنِ رحمت میں پناہ لی جائے۔ اس طرح اجتماعی زندگی، ملکی معاملات اور معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل کو عہد حاضر میں سمجھا جائے اور اسلام کی بنیاد پر ان کے حل کی متبادل صورتیں نکالی جائیں۔
محترم پروفیسر خورشید احمد نے زندگی کا بڑا حصہ استاد کی حیثیت سے گزارا ہے اور استاد کی حیثیت سے قلم اٹھایا ہے۔ اس طبعی مناسبت سے تعلیم اور تربیت کے لیے جو بہترین اسلوب ہو سکتا ہے، اس کا لحاظ کرتے ہوئے انھوں نے یہ مضامین لکھے ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو امڈتے افکار کے سامنے ہمیشہ عزم و ہمت اور ایمان و ایقان کی دولت سے سرشار کھڑے پایا۔ جوابی بیانیے کے لیے، ہمیشہ نئی فکر، نئی تحقیق اور نئے چیلنج کا معروضی انداز میں جائزہ لیا ہے۔ اس کا بھرپور احاطہ کیا ہے، اور ہر چھلنی سے گزار کر پرکھا، چھانٹا اور اسلامی علوم کی کسوٹی پر جا نچا ہے۔ اس سفر میں وہ علوم کی ترقی، ارتقا اور فکری تازگی کے احساس اور جذب و انجذاب سے لاتعلق نہیں رہے، بلکہ پروفیسر صاحب کاسفینۂ علم ان تمام لہروں پر محوِ سفر رہا ہے۔
یہ مضامین ان شاء اللہ، عمومی مباحث اور خصوصی مکالمے میں نئی نسل کو اسلام کے قریب لانے کا ذریعہ بنیں گے۔ اسلامی طرزِ حیات کی روشنی میں طالب علموں کو ایک سمت ملے گی۔ اساتذہ کی تربیت اور فکری نمو کے لیے بھی یہ مضامین خصوصاً مفید ہیں۔ وہ ان کا مطالعہ کر کے جب کلاس میں جائیں گے، تو نئی نسل کو زیادہ خوبی کے ساتھ اطمینان کا سامان فراہم کر سکیں گے۔
بڑے عرصے سے تعلیمی اداروں میں یہ ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کوئی ایسا مجموعہ دستیاب ہو، جو مکالمے کی شکل، دلائل و برہان کی زبان اور اسلام کے نقطۂ نظر کو واضح کرے۔ محترم و معظم پروفیسر خورشید احمد کے یہ مضامین ان چنیدہ مباحث سے متعلق ہیں، جو نئی نسل کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب فراہم کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحبِ کتاب کو اجر عظیم فرمائے اور کتاب کے مرتب برادرم سلیم منصور خالد کی کاوش کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان مباحث سے روشنی حاصل کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
