اندھیری جیل کا قیدی-عمران ظہور غازی

اندھیری جیل کا قیدی / عمران ظہور غازی / بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور حسینہ واجد کی حکومت بلا شرکتِ غیرے15 برس ملک کے سیاہ وسفید کی مالک رہی۔ اس دوران میں اُس نے اپنے سیاسی مخالفین، خصوصاً جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے ارکان و اعلیٰ قیادت کو منظر سے ہٹانے اور اپنا راستہ صاف کرنے کی خاطر انسانی قتل کے گھناؤنے جرم تک سے دریغ نہ کیا۔ جماعت اسلامی کے لوگوں کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے1971ء میں پاکستان کو قائم رکھنے کا مؤقف اپنایا تھا۔ اس تعذیب و تشدد اور قتل کے ذریعے حسینہ واجد دراصل اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی تھی۔ حسینہ واجد نے اپنے سرپرست انڈیا کی عملی رہنمائی میں اپنے شہریوں کے ساتھ کس قدر غیر انسانی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ سلوک روا رکھا اس کی ایک جھلک ’’اندھیری جیل کے قیدی‘‘ کی روداد میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ المناک داستان بہت سے پہلوئوں کو بے نقاب کرتی ہے لیکن یہ پوری تصویر نہیں بس ایک جھلک ہی ہے۔ حسینہ واجد اورعوامی لیگ کا یہ عرصۂ حکمرانی یقیناً سیاہ دور تھا جس میں انسانی حقوق اور عدل وانصاف کی اندھی پامالی کی تاریخ رقم کی گئی۔

’’اندھیری جیل کا قیدی‘‘ اسی ظالم حکومت کے نشۂ حکمرانی کی بھینٹ چڑھنے اور پھانسی پانے والے شہید میر قاسم کے اکلوتے فرزند بیرسٹر میراحمد بن قاسم کی 8 سالہ رودادِ اسیری ہے۔ اس اذیت ناک اور روح فرسا قید و بند کا آغاز میر احمد بن قاسم کی جبری گمشدگی سے ہوتا ہے۔ یہ رودادِ اسیری عقوبت خانوں میں گزرنے والے لمحات، ان کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم وستم اور روح کھینچ لینے اور دل لرزا دینے والی اندھیری تنہائی کی روداد ہے۔ یہ کوئی معمول کی رودادِ اسیری نہیں، بلکہ8 برس زندگی کا چہرہ دیکھے بغیر اور اس کی حرارت محسوس کیے بغیر اندھیرے میں گزرنے والے لمحات کی داستان ہے جس کا روحانی عنوان ’’ایمان وعزیمت‘‘ ہے۔

یہ روداد اُس فرد کی 8 سالہ داستانِ اسیری ہے جسے اس کے والد کی شہادت سے 26 یوم قبل غائب کرکے عقوبت خانوں میں ڈال کر مسلسل ٹارچر کیا جاتا رہا۔ یہ جبری گمشدگی بغیر مقدمہ عمل میں لائی گئی اور 8 برس تک بغیر مقدمہ درج ہوئے جاری رہی۔ کوئی عدالت لگی نہ کوئی فردِ جرم عائد ہوئی۔ ظلم تو ہمیشہ آنکھوں کا اندھا ہوتا ہے مگر ایسے گھناؤنے کھیلوں میں ظالم کا دل بھی سیاہ ہوجاتا ہے۔ اس کی نہایت واضح مثال میر احمد بن قاسم کا یہ مقدمہ تھا کہ انسانی حقوق کے اداروں کے مسلسل اصرار کے باوجود کہ انہیں جبری طور پر غائب کیاگیا ہے حکومت نے مسلسل جھوٹ بولا اور کہا کہ ہمیں تو ان کا کچھ پتا نہیں۔

اس سیاہ دور میں تنہا جماعت اسلامی کے 7 قائدین پھانسی کے پھندوں پر جھول گئے، 6 قائدین جیل میں جان سے گزر گئے، اسلامی جمعیت طلبہ کے 7 سابق وابستگان کو اُن کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی۔ بعض کے عزیز رشتے دار بدترین بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنے یا قید وبند کا شکار ہوئے، یا قید وبند میں ہی جان سے گزر گئے۔

یہ ایسی اسیری تھی جس کا لفظ ’اسیری‘ مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اس عرصے میں معمولاتِ زندگی کی ترتیب کا تو سوال ہی نہیں، یہاں تو نماز پنجگانہ کی ادائیگی کا وقت معلوم کرنے کا بھی کوئی تصور تک نہ تھا۔ قیدی کو ایسے اندھیرے سیل میں رکھا گیا جہاں دن کا پتا چلتا نہ رات کا،جہاں نہ سورج کی کرن دکھائی دیتی تھی نہ وقت معلوم کرنے کا کوئی آلہ دستیاب تھا۔ حتیٰ کہ نمازوں کے اوقات بتانے پر بھی سخت پابندی تھی۔ اس فریضے کی ادائیگی اندازے سے انجام پاتی رہی۔ بیماری میں دوا ملتی اور نہ سردی سے بچائو کے لیے مناسب بستر۔ سخت سردیوں میں بھی یخ بستہ پانی سے روزانہ نہانے کی پابندی تھی۔ ان 8 برسوں میں میر احمد بن قاسم نے سب سے بڑا درد جو محسوس کیا وہ مطالبے کے باوجود قرآن فراہم نہ کیے جانے کا درد تھا۔ حالانکہ قید کرنے اور نگرانی کرنے والے بھی مسلمان تھے۔ ان 8 برسوں میں 8 رمضان جیل میں گزرے لیکن روزہ رکھنا ممنوع تھا۔ یہیں 16 عیدیں گزریں لیکن ان دنوں میں اس ’’خطرناک‘‘ قیدی کے لیے اپنے والد، والدہ اور بچوں سے رابطے کا تصور تک نہیں تھا۔ خدا کے اس بندے نے انتہائی نقاہت کے باوجود روزے نہ چھوڑے، متعدد راہداریوں سے گزرکر جیل کے بہت اندر قائم ان اندھیرے ٹارچر سیلوں میں بھی قیدی مسلسل ہتھکڑی میں رہا اور اسی حالت میں فریضہ نماز بھی ادا ہوتا رہا۔ اس ٹارچر سیل کی جو صورتِ حال جیل کا قیدی بیان کرتا ہے وہ اذیت ناک ہی نہیں، دماغ سوز بھی ہے اور روح شکن بھی۔ یہاں ہر وقت گندگی اور بدبو کا راج تھا۔ واش روم گندگی کا ڈھیر، جہاں صفائی کا کوئی انتظام تھا اور نہ تصور۔ جیل ملازمین اور گارڈز کا انتہائی تلخ رویہ اور حیوانی لہجہ، تشدد کے نئے سے نئے اذیت ناک طریقے، بجلی کے جھٹکے، مارپیٹ سے اردگرد ہونے والی چیخ پکار میں انڈین گانے بلند آواز سے چلائے جاتے تاکہ ان بہیمانہ مظالم اور مظاہروں کی کسی کو خبر نہ ہوسکے۔

ایک قید خانے سے دوسرے میں منتقلی ہوتی رہی اور تعذیب وتشدد کے ہتھکنڈے بدلتے رہے۔

ڈی جی ایف آئی اے کا خفیہ حراستی مرکز جو ’’آئینہ گھر‘‘ کے نام سے معروف ہے، اوردیگر جیلوں، RAB کے زیرانتظام TFI کے سیل میں رہے۔ یہ ایسی قید تھی جسے جبری گمشدگی کہنا کفایت نہیں کرتا، لیکن تھی یہ جبری گمشدگی… کیونکہ یہ قید حکومتی دستاویزات میں درج تھی نہ تسلیم شدہ۔ ایسے تعذیب خانوں اور ٹارچر سیلوں میں زندہ رہنا اور ذہنی وجسمانی کرب اور کیفیات کو بیان کرنا اور سمجھنا مشکل ہے، جہاں ہر ہر لمحہ کیفیت بدلتی رہتی ہے۔

2024ء کا انقلاب بیرسٹر میر احمد بن قاسم کی اس 8 سالہ قید و بند سے نجات کا سبب بنا۔ گرفتاری سے لے کر رہائی تک یہ کُل آٹھ سال بنتے ہیں۔ جیل کے ان 8 برسوں میں ان کی زندگی کا راز اللہ کی یاد ہے۔ یہی ان کے لیے قوت وطاقت کا خزانہ تھا جس نے انہیں زندہ بھی رکھا اور زندگی سے بیزاری کو بھی کنٹرول کیا، ورنہ ایسی زندگی پر قیدی موت کو ترجیح دینے لگتا ہے۔

بیرسٹر میراحمد بن قاسم کی یہ روداد کسی صلے اور ستائش کی تمنا کے لیے مرتب نہیں کی گئی بلکہ اس ظلم وتشدد اور جبر کو بے نقاب کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ ایسے ہولناک اورخوفناک 8 سال جنھیں سہنا اور برداشت کرنا، اللہ کی یاد اور مدد ونصرت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس روداد میں یادِ الٰہی قدم قدم پر ہالہ کیے ہوئے نظر آتی ہے۔ ایک ایسی قید وبند جس میں انہیں وقت، دن اور مہینوں کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ ایک سال کے بعد انہوں نے آہستہ آہستہ وقت کا اندازہ لگانا شروع کیا۔ گارڈز کی تبدیلی، کھانے کی فراہمی اور ان کی گفتگو سے وقت کا اندازہ کیا جاتا اور اندازے سے ہی نمازوں کے اوقات متعین کیے اور ان کی ادائیگی ہوتی۔

یہ فریضۂ اقامتِ دین کے مجاہد اور اللہ کے دین کے سپاہی کی رودادِ اسیری ہے۔ نہ معلوم ایسے کتنے مجاہد فی سبیل اللہ جوانوں کی جوانی حسینہ واجد کے دوامِ حکمرانی کی نذر ہوگئی، کیسی کیسی مشکلات و مصائب کے طوفانوں سے گزرے، اپنا وعدہ پورا کرکے اپنے رب کے پاس چلے گئے لیکن زبان پر حرفِ شکایت نہ آیا۔ ان سب کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ یہ مقاماتِ بلند ہر کس و ناکس کا نصیبہ نہیں ؎

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

کتاب میں 3 ضمیمہ جات اور اشاریہ شامل ہیں۔ ان ضمیمہ جات میں میر قاسم علی کی شہادت، بنگلہ دیش میں ریاستی تشدد اور سچائی کا انکشاف (بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ حکومت میں حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے افراد کی جبری گمشدگی اور تشدد کا جائزہ لینے کے لیے”The Commission of Inquiry Enforced Dis appearances” قائم کیا تھا، یہ اس کی جاری کردہ عبوری رپورٹ 14 دسمبر 2024ء کا ترجمہ ہے۔پوری رپورٹ رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے)، اور تشدد کا منظم ریاستی ڈھانچہ: چند مثالیں(تحقیقاتی کمیشن کی بنگلہ زبان میں جاری کی گئی ایک مختصر رپورٹ ہے جس میں چند گواہیاں اور 24 تصاویر شامل ہیں،یہ رپورٹ اور تصاویر روح فرسا ہیں) شامل ہیں۔یہ رودادِ ظلم دراز بھی ہے اور دل گداز بھی، لیکن پڑھنے کے لائق ہے۔

کتاب کا گٹ اَپ عمدہ، سرورق دیدہ زیب اور ترتیب و پیش کش معیاری اورجدید انداز میں کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *