Description
ابراہیمی معاہدہ؟ خطرناک امریکی کھیل
از مولانا زاہد الرشدی
یہ کتابچہ عصرِ حاضر کے ایک نہایت اہم اور نازک فکری و دینی مسئلے پر مدلل اور دوٹوک اسلامی موقف پیش کرتا ہے۔ مولانا زاہد الرشدی صاحب نے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کے نام سے پیش کیے جانے والے عالمی بیانیے کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی یا سفارتی اقدام نہیں بلکہ عقیدۂ توحید پر ایک سنجیدہ فکری حملہ ہے۔
کتابچے میں سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ حقیقت اجاگر کی گئی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے کبھی دین کے معاملے میں سودے بازی، سمجھوتے یا مذہبی اشتراک کو قبول نہیں فرمایا۔ مکہ کے مشرکین، مسیلمہ کذاب اور دیگر قبائل کی جانب سے کی جانے والی مختلف پیش کشوں کو رد کرنے کا حوالہ دے کر یہ اصول واضح کیا گیا ہے کہ اسلام حق و باطل کے امتزاج کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔ قرآن مجید کی روشنی میں مصنف اس موقف کو دو ٹوک انداز میں بیان کرتے ہیں کہ دین کے معاملے میں نہ اتحاد ممکن ہے اور نہ مفاہمت۔
مولانا زاہد الرشدی اس کتابچے میں اس خطرناک سوچ کی بھی نشان دہی کرتے ہیں جس کے تحت یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں اور توحید و شرک میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ یہ تصور ایک عالمگیر فتنہ ہے جس کی قیادت آج عالمی سطح پر امریکی طاقت کر رہی ہے۔
یہ کتابچہ اہلِ علم، طلبہ، دینی حلقوں اور سنجیدہ قارئین کے لیے ایک فکری رہنمائی فراہم کرتا ہے اور امتِ مسلمہ کو عقیدۂ توحید پر ثابت قدم رہنے کا واضح پیغام دیتا ہے

Reviews
There are no reviews yet.