Description
اندھیری جیل کا قیدی از بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان ایک دل خراش اور لرزہ خیز روداد ہے جو بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے پندرہ سالہ دورِ اقتدار کے پس منظر میں سامنے آنے والے سیاسی انتقام، جبری گمشدگیوں اور ریاستی تشدد کی داستان بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب بالخصوص جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت اور کارکنان پر ڈھائے گئے مظالم کی ایک ہولناک جھلک پیش کرتی ہے۔
یہ روداد شہید میر قاسم علی کے اکلوتے فرزند بیرسٹر میر احمد بن قاسم کی آٹھ سالہ جبری گمشدگی اور اسیری پر مبنی ہے—ایک ایسی قید جو بغیر مقدمہ، بغیر فردِ جرم اور بغیر عدالتی سماعت کے جاری رہی۔ اندھیرے ٹارچر سیل، مسلسل ہتھکڑیاں، عبادات پر قدغن، قرآنِ مجید سے محرومی، سردی و بیماری میں بے بسی، اور وقت کے شعور سے محروم تنہائی ، یہ سب اس داستان کے وہ پہلو ہیں جو اسے محض ایک ذاتی یادداشت نہیں بلکہ ایمان و عزیمت کی استقامت بھری شہادت بنا دیتے ہیں۔
کتاب کی امتیازی خصوصیت اس کے تین اہم ضمیمے اور اشاریہ ہیں، جو اس روداد کو تاریخی اور دستاویزی بنیاد فراہم کرتے ہیں:
1-پہلا ضمیمہ میر قاسم علی کی شہادت اور اس کے عدالتی و سیاسی پس منظر پر روشنی ڈالتا ہے۔
2-دوسرا ضمیمہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے قائم کردہ The Commission of Inquiry on Enforced Disappearances کی 14 دسمبر 2024ء کی عبوری رپورٹ کا ترجمہ ہے۔ یہ کمیشن مبینہ جبری گمشدگیوں، خفیہ حراستی مراکز اور ریاستی تشدد کے الزامات کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا۔ رپورٹ میں متاثرین کی گواہیاں، ریاستی اداروں کے کردار پر سوالات، اور انصاف و شفافیت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ دستاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جبری گمشدگیاں محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم طرزِ عمل کا حصہ تھیں۔
3-تیسرے ضمیمے میں ریاستی تشدد کے منظم ڈھانچے کی مثالیں، مختصر تحقیقاتی بیانات اور ایسی تصاویر شامل ہیں جو اس المیے کی سنگینی کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔
یوں یہ کتاب صرف ایک فرد کی آٹھ سالہ اسیری کی داستان نہیں بلکہ ایک عہد کے سیاہ باب کی شہادت ہے۔ یہ ظلم کی تاریکی میں ایمان کی روشنی، صبر کی قوت اور حق گوئی کی جرأت کا استعارہ ہے۔ عمدہ طباعت، دیدہ زیب سرورق اور معیاری پیش کش کے ساتھ یہ تصنیف تاریخ کے حافظے میں محفوظ کیے جانے کے قابل ایک اہم دستاویز ہے۔





Reviews
There are no reviews yet.