Description
یہ کتاب محض ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک صاحبِ ذوق اور صاحبِ فکر قلمکار کی آنکھ سے دیکھی گئی دنیا کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ڈاکٹر میمونہ حمزہ نے اس تصنیف میں اپنے ان تجربات کو سمویا ہے جو 2010ء سے 2015ء کے دوران مختلف ممالک کی سیاحت، علمی مصروفیات اور ذاتی زندگی کے امتزاج سے تشکیل پائے۔
کتاب میں قازقستان، خصوصاً الماتی، کی معاشرت، معیشت، ثقافت اور روزمرہ زندگی کا نہایت باریک بینی سے مشاہدہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے مختصر مگر معنی خیز سفر کو بھی دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنفہ ایک اجنبی سرزمین پر قدم رکھنے والی مسافر کے احساسات—اجنبیت، جستجو، حیرت اور شناسائی—کو اس خوبی سے قلم بند کرتی ہیں کہ قاری خود کو ان کے ہمراہ سفر کرتا محسوس کرتا ہے۔
یہ تصنیف اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں محض مقامات کی منظرکشی نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور روحانی پہلو بھی موجود ہے۔ اسلام کی آفاقیت، انسانوں کے باہمی ربط، اور دنیا کو ایک عالمی گاؤں کے طور پر دیکھنے کا تصور پوری کتاب میں ایک لطیف انداز میں جھلکتا ہے۔
“زاروں کے دیس میں” ایک علامتی عنوان ہے جو اس خطے کی تاریخی اور تہذیبی پرتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور قاری کو محض حال نہیں بلکہ ماضی کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب قاری کو نہ صرف مختلف خطوں کی سیر کرواتی ہے بلکہ اسے ایک حساس، متجسس اور بامعنی نظر عطا کرتی ہے، جس کے ساتھ وہ دنیا کو نئے زاویوں سے دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔





Reviews
There are no reviews yet.