+92 332 0034909
Monday – Saturday: 9:00am-5:00pm
Friday break : 1:30 to 2:30
زندگی کا انجام زندگی ہی ہے، مگر اس تک پہنچنے کا راستہ موت کی گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ کتاب “اے میرے اسامہ “اسی پرکیف، پرسوز اور دلگداز سفر کی تحریری داستان ہے—ایسا سفر جس میں چار مسافر شامل تھے: ایک ماں، اس کا بیٹا، بہو اور ننھی پوتی۔ تین مسافر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اور اب ماں تنہا رہ گئی ہے—مگر خاموش نہیں۔ اُس نے ان جانے والوں سے گفتگو کا وسیلہ تین خطوط کو بنایا: ایک طویل، دو مختصر۔ لیکن ان مختصر خطوط میں بھی جذبات کی گہرائی اور زندگی کی صداقتوں کا وہ وزن ہے جو کسی طویل داستان پر بھاری پڑتا ہے۔
یہ خطوط کسی روایتی بیانیے کا حصہ نہیں—نہ افسانہ ہیں، نہ ناول، نہ مضمون کی ثقیل نثر اور نہ نوحہ گری کی آہ و فغاں۔ بلکہ یہ ایک ایسی منفرد تحریر ہے جو خونِ جگر سے لکھی گئی، دل سے نکلی، اور دلوں میں اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بظاہر یہ خودکلامی محسوس ہوتی ہے، لیکن صفحہ بہ صفحہ یہ تحریر خود احتسابی، روحانی بیداری، اور تربیتی شعور کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ کتاب صرف دکھ کی کہانی نہیں، بلکہ دکھ کے اندر چھپے شعور، صبر اور حکمت کی ہے۔
چوڑیاں
ثمرہ سعید
چوڑیاں ثمرہ سعید کے افسانوں کا مجموعہ ہے جو ان افراد کی کہانیاں بیان کرتا ہے جو زندگی کے حاشیے پر رہتے ہیں۔ یہ کہانیاں خاموش جدوجہد، چھپے ہوئے حوصلے اور ان دیکھے خوابوں کو بے ساختہ انداز میں سامنے لاتی ہیں۔
سادہ مگر اثر انگیز انداز میں لکھی گئی یہ کتاب اُن قارئین کے لیے ہے جو انسان کی اندرونی طاقت اور سماجی حقیقتوں کو سمجھنے کا شعور رکھتے ہیں
سلطان زنگی کی بیوہ
ڈاکٹر اختر حسین عزمی
سلطان زنگی کی بیوہ ایک تاریخی، فکری اور اصلاحی کہانی ہے جو نورالدین زنگی کی والدہ کے کردار کے ذریعے ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ تاریخ کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ باشعور اقلیت کے ہاتھوں آتی ہیں۔ یہ کتاب صلیبی جنگوں کے پس منظر میں مسلمانوں کی زوال پذیر حالت اور ایک بہادر خاتون کی مزاحمت کو اُجاگر کرتی ہے، جو اپنے دائرۂ اثر میں اصلاح کا علم بلند کرتی ہے۔
مصنف نے موجودہ دور کی سیاسی سازشوں، مسلم ممالک کی بے بسی اور مغربی یلغار کو تاریخ کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب ہر اُس قاری کے لیے اہم ہے جو ماضی سے سبق سیکھ کر حال کو سنوارنے کا جذبہ رکھتا ہو۔