Description
بیسویں صدی میں جب مسلم معاشرے مغربی افکار اور استعماری اثرات کے زیرِ سایہ اپنی دینی شناخت سے دور ہوتے جا رہے تھے، اس دور میں چند نام ایسے ابھرے جنہوں نے دین کی بازیافت کے لیے فکری کام کیا۔ خلیل الرحمٰن چشتی کی یہ تصنیف “احیائے دین آور مولانا مودودی” انہی میں سے ایک اہم نام، سید ابوالاعلیٰ مودودی، کے اسی پہلو کو موضوع بناتی ہے۔
کتابچے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مولانا مودودی نے اسلام کو محض چند عبادات تک محدود کرنے کے بجائے ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کیسے کی، اور اس کے لیے انہوں نے دینی اصطلاحات کو عام فہم زبان میں کیسے منتقل کیا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی تحریروں نے کس طرح برصغیر اور اس سے آگے کے علاقوں میں دینی تحریکوں پر گہرا اثر ڈالا۔
یہ کتابچہ طلبہ، محققین اور ان تمام قارئین کے لیے موزوں ہے جو مولانا مودودی کی احیائے دین کی کوششوں کو ایک مختصر مگر مربوط انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں، بغیر اس کے کہ انہیں ان کے مکمل لٹریچر کا مطالعہ پہلے سے کرنا پڑے۔
مولانا مودودی کے موضوع پرمنشورات کی وسیع لائبریری کا یہ کتابچہ بھی حصہ ہے، جو ان کی زندگی، فکر اور تحریک کو مختلف زاویوں سے قاریان تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔





1 review for Ahya e Deen Aur Molana Maududi
There are no reviews yet.