Description
تاریخِ انسانی میں بعض کتابیں محض تحریریں نہیں رہتیں بلکہ وہ پورے معاشروں کی سمت بدل دیتی ہیں۔ پروفیسر خورشید احمد کی یہ تحریر اسی خیال کے گرد گھومتی ہے کہ کس طرح ایک کتاب — یعنی قرآن مجید — نے انسانی تاریخ میں انقلاب برپا کیا اور آج بھی اس میں تبدیلی کی وہی صلاحیت موجود ہے۔
اس تحریر میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن مجید نے ساتویں صدی کے عرب معاشرے کو کس طرح جاہلیت کی تاریکی سے نکال کر ایک عادلانہ اور متوازن نظامِ حیات عطا کیا۔ مصنف نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ قرآن کا انقلابی پیغام کسی خاص دور یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا نزولِ قرآن کے وقت تھا۔
کتاب میں یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ قرآن کا انقلاب محض فکری یا نظریاتی نہیں بلکہ عملی اور معاشرتی بھی تھا — جس نے معیشت، سیاست، عدل اور اخلاقیات کے میدانوں میں دیرپا تبدیلیاں پیدا کیں۔ مصنف نے موجودہ دور کے مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ قرآن کو محض تلاوت کی کتاب کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے تبدیلی اور اصلاح کے ایک فعال ذریعے کے طور پر اپنائیں۔
یہ تحریر ان تمام قارئین کے لیے فکر انگیز ہے جو قرآن کے پیغام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے خواہشمند ہیں، خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے جو دین کو محض روایت کے بجائے ایک زندہ اور فعال قوت کے طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔ منشورات کی قرآن سے متعلق دیگر مطبوعات کے ساتھ اس کا مطالعہ موضوع کو مزید گہرائی دیتا ہے۔





1 review for Aik Kitab E Inqilab
There are no reviews yet.