Description
صرف روان اُردو میں منتقل کیا بلکہ اسے عصرِ حاضر کے سیاسی و فکری تناظر، خصوصاً کشمیر کے پس منظر میں ازسرِنو معنی بخشی۔ گیلانی صاحب کی تحریر و تقریر کی ہم آہنگ قوت اس کتاب میں پوری بلندی سے جلوہ گر ہے—ایک ایسی ہم آہنگی جو اقبال شناسی کو محض مطالعہ نہیں بلکہ ایک فکری جدوجہد کا حصہ بنا دیتی ہے۔
مصنف نے اقبال کے فارسی افکار کو کشمیر کی موجودہ جدوجہدِ آزادی، اس کی اجتماعی نفسیات اور سیاسی حالات سے جوڑ کر یہ ثابت کیا ہے کہ اقبال کی صدائے جاں آج بھی برمحل ہے، اور اُن کے پیش کردہ تصورات سے اکیسویں صدی کا انسان—خصوصاً کشمیری مسلمان—رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔ گیلانی کے نزدیک تکمیلِ پاکستان اور کشمیری عوام کی آزادی، اقبال کے خواب کی ایک لازمی توسیع ہے، اور وہ اس خواب کو سمجھنے کے لیے اقبال کی فروزاں شمع کو واحد منبعِ روشنی قرار دیتے ہیں۔
کتاب کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں اقبالیات کو محض فکری دائرے میں نہیں رکھا گیا بلکہ کشمیر کے سیاسی زخموں، اجتماعی کمزوریوں اور بدلتے رجحانات کا آئینہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مصنف کے نزدیک اقبال کا فارسی کلام گویا براہِ راست کشمیری قوم کو متوجہ کرتا ہے—انہیں بیداری، خودی اور حریتِ فکر کی دعوت دیتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف اقبال شناسی کی ایک نئی راہ کھولتی ہے بلکہ کشمیر کے قارئین کے لیے اقبال کی فکری دنیا میں داخل ہونے کا ایک معتبر دروازہ فراہم کرتی ہے۔ گیلانی کی گہری بصیرت اور فکری وابستگی اس کتاب کو ایک ایسی تصویری تفسیر بناتی ہے جس میں اقبال کی روح اور کشمیر کی جدوجہد ایک ہی دھارے میں بہتی نظر آتی ہیں۔





Reviews
There are no reviews yet.