+92 332 0034909
Monday – Saturday: 9:00am-5:00pm
Friday break : 1:30 to 2:30
خرم مرادؒ کے تربیتی دروسِ قرآن پر مبنی یہ کتاب قرآن فہمی، دعوتِ دین، اور مؤثر درس دینے کی عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
منتخب قرآنی حصوں، ترجمے، تجزیاتی نکات اور خرم مرادؒ کے ماڈل دروس پر مشتمل یہ کتاب اُن افراد کے لیے ایک قیمتی رہنما ہے جو قرآن کو دل سے سمجھنا اور دوسروں تک اس کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچانا چاہتے ہیں۔ تحریک اسلامی کی تربیتی روایت کا یہ گراں قدر سرمایہ ہر معلم، داعی، اور کارکن کے لیے ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ کتاب محترم خرم مرادؒ کے مسجد بلال، لاہور میں دیے گئے 21 منتخب دروسِ حدیث پر مشتمل ہے، جو انہوں نے 1991 سے 1995 تک خطباتِ جمعہ کے دوران پیش کیے۔ ان خطبات میں ایمان، عبادات، اخلاق، اور سیرتِ نبوی ﷺ سے عملی تعلق کو دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر درس ایک فکری وحدت ہے جو قاری کے دل کو چھوتا اور عمل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
آج کے اخلاقی بحران میں یہ کتاب کردار سازی اور دینی شعور کی بیداری کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے — نیت ہو تو یہ مطالعہ جنت کے سفر کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
لمحات صرف خرم مرادؒ کی خودنوشت نہیں، بلکہ اُردو کے تحریکی اَدب میں منفرد اضافہ بھی ہے۔ اسے نہ معروف معنی میں آپ بیتی یا خُود نوشت سوانح عمری کہا جا سکتا ہے اور نہ اِسلامی تحریک کی تاریخ۔ یہ نہ روزنامچہ ہے اور نہ ڈاٸری کی قبیل کی شے، گو ان میں سے ہر ایک کی کچھ کچھ جھلکیاں ضرور نظر آتی ہیں۔ لمحات یادوں کا ایک ایسا قیمتی مرقع ہے، جس میں ایک طرف ایسے انسان کی با مقصد شخصی اور تحریکی زندگی کی اہم ترین جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں، جس نے عنفوانِ شباب ہی میں اپنے کو ایک پاکیزہ نصب العین اور ایک تعمیری تحریک کے لیے وقف کر دیا تھا۔
یہ کتاب تحریکِ اِسلامی کی تاریخ، مشکلات اور مساٸل سے آگاہ ہونے کا ایک قابلِ قدر ذریعہ ہے۔ بلکہ اِس سے بڑھ کر تحریک اِسلامی کے ہر کارکن کے لیے ایک معیاری کارکن بننے کے عمل کو سمجھنے اور اس پر کار فرما ہونے میں یہ معاون و مددگار ہو سکتی ہے
“حسد اور بغض” خُرَّم مراد کی تصنیف ہے جو منفی جذبات کے نقصانات اور ان کے روحانی و معاشرتی اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔ منشورات پبلشر کی یہ کاوش ذاتی اصلاح اور درسِ حدیث میں مطالعہ کے لیے نہایت مفید ہے، قاری کو محبت و اخوت کی راہ دکھاتی ہے۔
خون اور آنسوؤں کا دریا — قطب الدین عزیز
کیا آپ جانتے ہیں کہ 1971ء میں جھوٹ، پراپیگنڈے اور بیرونی مداخلت نے پاکستان کو کیسے توڑا؟
یہ کتاب عینی شاہدین کی کہانیوں اور اصل حقائق کے ذریعے بتاتی ہے کہ عوامی لیگ اور مکتی باہنی نے کس طرح بے گناہوں کا خون بہایا اور تاریخ کو مسخ کیا۔
یہ صرف ایک کتاب نہیں، مشرقی پاکستان کی اصل داستان ہے
“دل پہ دستک” دل سے نکلے خیالات اور یادوں کا ایسا مجموعہ ہے جو زندگی کے چھوٹے مگر معنی خیز لمحات کو سادگی اور گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ یہ کتاب بچپن کے تجربات، عبادات سے جُڑی عادات، اور انسانی کمزوریوں کو نرمی سے چھوتی ہے اور قاری کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔
مصنف نے اپنے اسکول کے دنوں سے ایک معمولی سے سرکاری حکم کو بنیاد بنا کر دکھایا ہے کہ کیسے چھوٹے فیصلے زندگی بھر کی عادات میں بدل جاتے ہیں۔ ہر تحریر ایک دستک ہے جو قاری کے دل پر اثر چھوڑتی ہے۔
156 منتخب کالمز پر مشتمل یہ کتاب تعمیری سوچ، روحانی ترقی اور نرم مزاح سے بھرپور ہے۔ “دل پہ دستک” نہ نصیحت کرتی ہے، نہ حکم دیتی ہے—بس خاموشی سے بہتر انسان بننے کی راہ دکھاتی ہے۔
“خاموشی پیچھے شور” — اختر عباس
اختر عباس کا افسانوی مجموعہ “خاموشی پیچھے شور” زندگی کے اُن لمحوں کو بیان کرتا ہے جو بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر اندر ہی اندر جذبات، یادوں اور احساسات کا شور لیے ہوتے ہیں۔
ان کہانیوں میں بچپن کی گلیاں، مسجد کی اذان، سفید بلی کی رفاقت، اور رشتوں کی گہرائی ہے—سب کچھ جو قاری کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔
یہ صرف افسانے نہیں بلکہ زندگی سے جڑی سچی تصویریں ہیں، جو نرم لہجے میں گہرے پیغام دیتی ہیں۔ منشورات کی یہ اشاعت ادب کو ایک فکری دعوت سمجھتی ہے اور مصنف کے قلم سے نکلی یہ تحریریں امید، شکر اور تعلق کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔
قانتہ رابعہ کا یہ افسانوی مجموعہ اُن مشاہدات، تجربات اور احساسات کا نچوڑ ہے جو ایک حساس دل اور متحرک ذہن نے برسوں کے سفر میں سمیٹے۔ ان افسانوں میں عورت، خاندان، معاشرہ اور روزمرہ زندگی کے مسائل کو سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ تحریریں معروف خواتین رسائل جیسے پکارِ ملت، بتول، عفت، پاکیزہ، شعاع اور خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں، اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے سے سرشار ہیں۔ قانتہ رابعہ کا قلم زندگی کے سچے رنگوں کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ کتاب اُن قارئین کے لیے ہے جو ادب میں سچائی، مقصدیت اور معاشرتی شعور تلاش کرتے ہیں۔