+92 42 35252211
Monday – Saturday: 9:00am-5:00pm
Friday break : 1:30 to 2:30
یہ کتاب بنگلہ دیش میں اسلامی تحریک کے رہنما عبدالقادر ملا کی شہادت کے پس منظر میں انصاف، قانون، اور انسانی حقوق کے قتل کی داستان بیان کرتی ہے۔ پروفیسر خورشید احمد نے اس تحریر میں ریاستی ظلم، سیاسی انتقام، اور عالمی ضمیر کی خاموشی پر گہرا سوال اٹھایا ہے۔
”بنگلہ دیش جنگی مقدمات“ پروفیسر خورشید احمد کی ایک جامع اور فکر انگیز تصنیف ہے، جس میں سقوطِ مشرقی پاکستان (۱۹۷۱ء) کے سانحے کے پس منظر اور ۲۰۱۳ء میں بنگلہ دیش میں چلنے والے نام نہاد جنگی مقدمات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
مصنف نے معتبر اداروں کی رپورٹس اور بین الاقوامی قانونی ماہرین کی آراء کے ذریعے واضح کیا ہے کہ کس طرح حکومت نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے جھوٹے مقدمات قائم کیے، پرامن شہریوں، عورتوں اور بچوں تک کو نشانہ بنایا، ہزاروں کو زخمی اور بیسیوں ہزار کو جیلوں میں ڈال دیا۔ حزبِ اختلاف اور انسانی حقوق کے علَم بردار ادارے ان اقدامات کو کھلے عام نسل کُشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہیں۔
یہ کتاب محض ایک تاریخی ریکارڈ نہیں بلکہ انصاف اور انسانی حقوق کے سوال کو اجاگر کرنے والی ایک دل گرفتہ اور دستاویزی تحریر ہے، جو ان قارئین کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے جو پاکستان، بنگلہ دیش اور خطے کی سیاسی و سماجی حقیقتوں کو سمجھنا چاہتے ہیں
پروفیسر خورشید احمد کی کتاب “تذکروں زنداں” ان کے ایامِ اسیری کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب محض قید و بند کی روداد نہیں بلکہ ایمان، صبر اور استقامت کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ مصنف نے زندان کی سختیوں کو مطالعہ، تفکر اور ذکر سے ایک تربیت گاہ میں بدل دیا۔ “تذکروں زنداں” ہر اس قاری کے لیے سبق آموز ہے جو نظریات اور اصولوں پر قائم رہنے کی ہمت تلاش کرتا ہے۔ یہ کتاب منشورات پاکستان نے شائع کی ہے۔