+92 42 35252211
Monday – Saturday: 9:00am-5:00pm
Friday break : 1:30 to 2:30
“حسد اور بغض” خُرَّم مراد کی تصنیف ہے جو منفی جذبات کے نقصانات اور ان کے روحانی و معاشرتی اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔ منشورات پبلشر کی یہ کاوش ذاتی اصلاح اور درسِ حدیث میں مطالعہ کے لیے نہایت مفید ہے، قاری کو محبت و اخوت کی راہ دکھاتی ہے۔
خون اور آنسوؤں کا دریا — قطب الدین عزیز
کیا آپ جانتے ہیں کہ 1971ء میں جھوٹ، پراپیگنڈے اور بیرونی مداخلت نے پاکستان کو کیسے توڑا؟
یہ کتاب عینی شاہدین کی کہانیوں اور اصل حقائق کے ذریعے بتاتی ہے کہ عوامی لیگ اور مکتی باہنی نے کس طرح بے گناہوں کا خون بہایا اور تاریخ کو مسخ کیا۔
یہ صرف ایک کتاب نہیں، مشرقی پاکستان کی اصل داستان ہے
“دل پہ دستک” دل سے نکلے خیالات اور یادوں کا ایسا مجموعہ ہے جو زندگی کے چھوٹے مگر معنی خیز لمحات کو سادگی اور گہرائی سے بیان کرتا ہے۔ یہ کتاب بچپن کے تجربات، عبادات سے جُڑی عادات، اور انسانی کمزوریوں کو نرمی سے چھوتی ہے اور قاری کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔
مصنف نے اپنے اسکول کے دنوں سے ایک معمولی سے سرکاری حکم کو بنیاد بنا کر دکھایا ہے کہ کیسے چھوٹے فیصلے زندگی بھر کی عادات میں بدل جاتے ہیں۔ ہر تحریر ایک دستک ہے جو قاری کے دل پر اثر چھوڑتی ہے۔
156 منتخب کالمز پر مشتمل یہ کتاب تعمیری سوچ، روحانی ترقی اور نرم مزاح سے بھرپور ہے۔ “دل پہ دستک” نہ نصیحت کرتی ہے، نہ حکم دیتی ہے—بس خاموشی سے بہتر انسان بننے کی راہ دکھاتی ہے۔
“خاموشی پیچھے شور” — اختر عباس
اختر عباس کا افسانوی مجموعہ “خاموشی پیچھے شور” زندگی کے اُن لمحوں کو بیان کرتا ہے جو بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر اندر ہی اندر جذبات، یادوں اور احساسات کا شور لیے ہوتے ہیں۔
ان کہانیوں میں بچپن کی گلیاں، مسجد کی اذان، سفید بلی کی رفاقت، اور رشتوں کی گہرائی ہے—سب کچھ جو قاری کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔
یہ صرف افسانے نہیں بلکہ زندگی سے جڑی سچی تصویریں ہیں، جو نرم لہجے میں گہرے پیغام دیتی ہیں۔ منشورات کی یہ اشاعت ادب کو ایک فکری دعوت سمجھتی ہے اور مصنف کے قلم سے نکلی یہ تحریریں امید، شکر اور تعلق کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔
قانتہ رابعہ کا یہ افسانوی مجموعہ اُن مشاہدات، تجربات اور احساسات کا نچوڑ ہے جو ایک حساس دل اور متحرک ذہن نے برسوں کے سفر میں سمیٹے۔ ان افسانوں میں عورت، خاندان، معاشرہ اور روزمرہ زندگی کے مسائل کو سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ تحریریں معروف خواتین رسائل جیسے پکارِ ملت، بتول، عفت، پاکیزہ، شعاع اور خواتین ڈائجسٹ میں شائع ہو چکی ہیں، اور اصلاحِ معاشرہ کے جذبے سے سرشار ہیں۔ قانتہ رابعہ کا قلم زندگی کے سچے رنگوں کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ کتاب اُن قارئین کے لیے ہے جو ادب میں سچائی، مقصدیت اور معاشرتی شعور تلاش کرتے ہیں۔
زندگی کا انجام زندگی ہی ہے، مگر اس تک پہنچنے کا راستہ موت کی گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ کتاب “اے میرے اسامہ “اسی پرکیف، پرسوز اور دلگداز سفر کی تحریری داستان ہے—ایسا سفر جس میں چار مسافر شامل تھے: ایک ماں، اس کا بیٹا، بہو اور ننھی پوتی۔ تین مسافر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اور اب ماں تنہا رہ گئی ہے—مگر خاموش نہیں۔ اُس نے ان جانے والوں سے گفتگو کا وسیلہ تین خطوط کو بنایا: ایک طویل، دو مختصر۔ لیکن ان مختصر خطوط میں بھی جذبات کی گہرائی اور زندگی کی صداقتوں کا وہ وزن ہے جو کسی طویل داستان پر بھاری پڑتا ہے۔
یہ خطوط کسی روایتی بیانیے کا حصہ نہیں—نہ افسانہ ہیں، نہ ناول، نہ مضمون کی ثقیل نثر اور نہ نوحہ گری کی آہ و فغاں۔ بلکہ یہ ایک ایسی منفرد تحریر ہے جو خونِ جگر سے لکھی گئی، دل سے نکلی، اور دلوں میں اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بظاہر یہ خودکلامی محسوس ہوتی ہے، لیکن صفحہ بہ صفحہ یہ تحریر خود احتسابی، روحانی بیداری، اور تربیتی شعور کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ کتاب صرف دکھ کی کہانی نہیں، بلکہ دکھ کے اندر چھپے شعور، صبر اور حکمت کی ہے۔